محمد جوناگڑھی — 600
100:6 یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے.[1]
100:7 اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے.[1]
100:8 یہ مال کی محنت میں بھی بڑا سخت ہے.[1]
100:9 کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا.[1]
100:10 اور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی.[1]
100:11 بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا.[1]
101:1 کھڑکھڑا دینے والی۔
101:2 کیا[1] ہے وه کھڑکھڑا دینے والی.
101:3 تجھے کیا معلوم کہ وه کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے.
101:4 جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے.[1]
101:5 اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے.[1]
101:6 پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے.[1]
101:7 وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا.[1]
101:8 اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے.[1]
101:9 اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے.[1]
101:10 تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے.[1]
101:11 وه تند وتیز آگ (ہے).[1]
102:1 زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا.[1]
102:2 یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے.[1]
102:3 ہرگز نہیں[1] تم عنقریب معلوم کر لو گے.
102:4 ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا.[1]
102:5 ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو.[1]
102:6 تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے.[1]
102:7 اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے.[1]
102:8 پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا.[1]