محمد جوناگڑھی — 599
98:6 بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں.[1]
98:7 بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں.[1]
98:8 ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا[1] اور یہ اس سے راضی ہوئے[2]۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے.[3]
99:1 جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی.[1]
99:2 اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی.[1]
99:3 انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟[1]
99:4 اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی.[1]
99:5 اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا.[1]
99:6 اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں[1] گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں.[2]
99:7 پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا.[1]
99:8 اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا.[1]
100:1 ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم![1]
100:2 پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم![1]
100:3 پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم.[1]
100:4 پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں[1]
100:5 پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں.[1]