محمد جوناگڑھی — 598
96:13 بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منھ پھیرتا ہو تو.[1]
96:14 کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے.[1]
96:15 یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے.[1]
96:16 ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے.[1]
96:17 یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے.
96:18 ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے.[1]
96:19 خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا۔
97:1 یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا.[1]
97:2 تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟[1]
97:3 شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے.[1]
97:4 اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں.[1]
97:5 یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے[1] اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے).
98:1 اہل کتاب کے کافر[1] اور مشرک[2] لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ).
98:2 اللہ تعالیٰ کا ایک رسول[1] جو پاک صحیفے پڑھے.[2]
98:3 جن میں صحیح اور درست احکام ہوں.[1]
98:4 اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے.[1]
98:5 انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا[1] کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف[2] کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا.[3]