>

محمد جوناگڑھی — 594

89:23 اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی[1] اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟[2]

89:24 وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا.[1]

89:25 پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا.

89:26 نہ اسکی قید وبند جیسی کسی کی قید وبند ہوگی.[1]

89:27 اے اطمینان والی روح.

89:28 تو اپنے رب کی طرف[1] لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش.

89:29 پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا.

89:30 اور میری جنت میں چلی جا.

90:1 میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں.[1]

90:2 اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں.[1]

90:3 اور (قسم ہے) انسانی باپ اور اوﻻد کی.[1]

90:4 یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے.[1]

90:5 کیا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ کسی کے بس میں ہی نہیں؟[1]

90:6 کہتا (پھرتا) ہے کہ میں نے تو بہت کچھ مال خرچ کر ڈاﻻ.[1]

90:7 کیا (یوں) سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے دیکھا (ہی) نہیں؟[1]

90:8 کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں.[1]

90:9 اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں بنائے).[1]

90:10 ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے.[1]

90:11 سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا.[1]

90:12 اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟.

90:13 کسی گردن (غلام ،لونڈی) کو آزاد کرنا.

90:14 یا بھوک والے دن کھانا کھلانا.

90:15 کسی رشتہ دار یتیم کو.

90:16 یا خاکسار مسکین کو.[1]

90:17 پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے[1] اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں.[2]

90:18 یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے).