محمد جوناگڑھی — 584
79:17 (کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے.[1]
79:18 اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے.[1]
79:19 اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے.[1]
79:20 پس اسے بڑی نشانی دکھائی.[1]
79:21 تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی.[1]
79:22 پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے.[1]
79:23 پھر سب کو جمع کرکے پکارا.[1]
79:24 تم سب کا رب میں ہی ہوں.
79:25 تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا.[1]
79:26 بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے.[1]
79:27 کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا[1] ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا.
79:28 اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا.[1]
79:29 اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا.[1]
79:30 اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا.[1]
79:31 اس میں سے پانی اور چاره نکالا.
79:32 اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا.
79:33 یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں).
79:34 پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی.
79:35 جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا.
79:36 اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی.[1]
79:37 تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی).[1]
79:38 اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی).[1]
79:39 اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے.[1]
79:40 ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے[1] سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا.[2]
79:41 تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے.[1]
79:42 لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں.[1]
79:43 آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟[1]
79:44 اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے.
79:45 آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں.[1]
79:46 جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں.[1]