محمد جوناگڑھی — 580
76:26 اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر.[1]
76:27 بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں[1] اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں.[2]
76:28 ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بندھن مضبوط کیے[1] اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل ﻻئیں.[2]
76:29 یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راه لے لے.[1]
76:30 اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے[1] بیشک اللہ تعالیٰ علم واﻻ باحکمت ہے.[2]
76:31 جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے، اور ﻇالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے.[1]
77:1 دل خوش کن چلتی ہواؤں کی قسم.[1]
77:2 پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم.[1]
77:3 پھر (ابر کو) ابھار کر پراگنده کرنے والیوں[1] کی قسم.[2]
77:4 پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے.[1]
77:5 اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم.[1]
77:6 جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے.[1]
77:7 جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے.[1]
77:8 پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے.[1]
77:9 اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا.
77:10 اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے.[1]
77:11 اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا.[1]
77:12 کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟[1]
77:13 فیصلے کے دن کے لیے.[1]
77:14 اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
77:15 اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے.[1]
77:16 کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
77:17 پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو ﻻئے.[1]
77:18 ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں.[1]
77:19 اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.