محمد جوناگڑھی — 578
75:20 نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو.
75:21 اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو.[1]
75:22 اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے.
75:23 اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.[1]
75:24 اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے.[1]
75:25 سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ[1] کیا جائے گا.
75:26 نہیں نہیں[1] جب روح ہنسلی تک[2] پہنچے گی.
75:27 اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک[1] کرنے واﻻ ہے؟
75:28 اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے.[1]
75:29 اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی.[1]
75:30 آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے.
75:31 اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی.[1]
75:32 بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی.[1]
75:33 پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا.[1]
75:34 افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر.
75:35 وائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے.[1]
75:36 کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا.[1]
75:37 کیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟
75:38 پھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا.[1]
75:39 پھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے.
75:40 کیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے.[1]
76:1 یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں[1] جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا.
76:2 بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے[1] پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا.
76:3 ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا.[1]
76:4 یقیناً ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے.[1]
76:5 بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے.[1]