>

محمد جوناگڑھی — 576

74:19 اسے ہلاکت ہو کیسی (تجویز) سوچی؟

74:20 وه پھر غارت ہو کس طرح اندازه کیا.[1]

74:21 اس نے پھر دیکھا.[1]

74:22 پھر تیوری چڑھائی اور منھ بنایا.[1]

74:23 پھر پیچھے ہٹ گیا اور غرور کیا.[1]

74:24 اور کہنے لگا تو یہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے.[1]

74:25 سوائے انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں ہے.

74:26 میں عنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا.

74:27 اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟[1]

74:28 نہ وه باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے.[1]

74:29 کھال کو جھلسا دیتی ہے.

74:30 اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں.[1]

74:31 ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے[1] تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں[2]، اوراہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے[3] اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وه اور کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے[4]؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے[5]۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا[6]، یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پند ونصیحت ہے.[7]

74:32 سچ کہتا ہوں[1] قسم ہے چاند کی.

74:33 اور رات کی جب وه پیچھے ہٹے.

74:34 اور صبح کی جب کہ روشن ہو جائے.

74:35 کہ (یقیناً وه جہنم) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے.[1]

74:36 بنی آدم کو ڈرانے والی.

74:37 (یعنی) اسے[1] جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے.[2]

74:38 ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے.[1]

74:39 مگر دائیں ہاتھ والے.[1]

74:40 کہ وه بہشتوں میں (بیٹھے ہوئے) گناه گاروں سے.

74:41 سوال کرتے ہوں گے.[1]

74:42 تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ.

74:43 وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے.

74:44 نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے.[1]

74:45 اور ہم بحﺚ کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحﺚ مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے.[1]

74:46 اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے.

74:47 یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی.[1]