محمد جوناگڑھی — 570
70:41 اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں[1] اور ہم عاجز نہیں ہیں.[2]
70:42 پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے[1] یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے.
70:43 جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وه کسی جگہ کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں.[1]
70:44 ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی[1] ، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی[2]، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا.[3]
71:1 یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف[1] بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے.[2]
71:2 (نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں.[1]
71:3 کہ تم اللہ کی عبادت کرو[1] اور اسی سے ڈرو[2] اور میرا کہا مانو.[3]
71:4 تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا[1] ۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا[2]۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی.[3]
71:5 (نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے.[1]
71:6 مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے.[1]
71:7 میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا[1] انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں[2] اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا[3] اور اڑ گئے[4] اور بڑا تکبر کیا.[5]
71:8 پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا.
71:9 اور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی.[1]
71:10 اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ[1] (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے.[2]