محمد جوناگڑھی — 566
68:43 نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی[1] ، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے.[2]
68:44 پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے[1] ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.[2]
68:45 اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے.[1]
68:46 کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں.[1]
68:47 یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں.[1]
68:48 پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر[1] ) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب[2] کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی.[3]
68:49 اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا.[1]
68:50 اسے اس کے رب نے پھر نوازا[1] اور اسے نیک کاروں میں کر دیا.[2]
68:51 اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں[1] ، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے.[2]
68:52 در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے.[1]
69:1 ﺛابت ہونے والی.[1]
69:2 ﺛابت ہونے والی کیا ہے؟[1]
69:3 اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟[1]
69:4 اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا[1]
69:5 (جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے.[1]
69:6 اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے.[1]
69:7 جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا[1] پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں.[2]
69:8 کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟