محمد جوناگڑھی — 563
67:13 تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو[1] وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے.[2]
67:14 کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا[1] ؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو.[2]
67:15 وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا[1] تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو[2] اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو[3]) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے.
67:16 کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے.[1]
67:17 یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تم پر پتھر برسادے[1] ؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا.[2]
67:18 اوران سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟
67:19 کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے[1] ، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے[2]۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے.
67:20 سوائے اللہ کے تمہارا وه کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے[1] کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں.[2]
67:21 اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا[1] ؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں.[2]
67:22 اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے[1] یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟[2]
67:23 کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا[1] اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو.[3]
67:24 کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف سے تم اکٹھے کیے جاؤ گے.[1]
67:25 (کافر) پوچھتے ہیں کہ وه وعده کب ﻇاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟)[1]
67:26 آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے[1] ، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں.[2]