محمد جوناگڑھی — 544
58:12 اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو[1] یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے[2]، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
58:13 کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا[1] تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو[2]۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے.
58:14 کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہوچکا ہے[1] ، نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں[2] باوجود علم کے پھر بھی جھوٹ پر قسمیں کھا رہے ہیں.[3]
58:15 اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، تحقیق جو کچھ یہ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں.[1]
58:16 ان لوگوں نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے[1] اور لوگوں کو اللہ کی راه سے روکتے ہیں[2] ان کے لیے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے.
58:17 ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے.
58:18 جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے[1] اور سمجھیں گے کہ وه بھی کسی (دلیل) پر ہیں[2]، یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں.
58:19 ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے[1] ، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے[2] یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے.[3]
58:20 بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں[1] وہی لوگ سب سے زیاده ذلیلوں میں ہیں.[2]
58:21 اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے[1] کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ زور آور اور غالب ہے.[2]