محمد جوناگڑھی — 536
56:51 پھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو!
56:52 البتہ کھانے والے ہو تھوہر کا درخت.
56:53 اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو.[1]
56:54 پھر اس پر گرم کھولتا پانی پینے والے ہو.
56:55 پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح.[1]
56:56 قیامت کے دن ان کی مہمانی یہ ہے.[1]
56:57 ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟[1]
56:58 اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو.
56:59 کیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟[1]
56:60 ہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا[1] ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں.[2]
56:61 کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بےخبر ہو.[1]
56:62 تمہیں یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟[1]
56:63 اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو.
56:64 اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں.[1]
56:65 اگر ہم چاہیں تواسے ریزه ریزه کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی ره جاؤ.[1]
56:66 کہ ہم پر تو تاوان ہی پڑ گیا.[1]
56:67 بلکہ ہم بالکل محروم ہی ره گئے.
56:68 اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو.
56:69 اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟
56:70 اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کردیں پھر تم ہماری شکرگزاری کیوں نہیں کرتے؟[1]
56:71 اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو.
56:72 اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں؟[1]
56:73 ہم نے اسے سبب نصیحت[1] اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے.[2]
56:74 پس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو.
56:75 پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی.[1]
56:76 اور اگرتمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے.