محمد جوناگڑھی — 518
50:1 ق! بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے.[1]
50:2 بلکہ انہیں تعجب معلوم ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاه کرنے واﻻ آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ ایک عجیب چیز ہے.[1]
50:3 کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے۔ پھر یہ واپسی دور (از عقل) ہے.[1]
50:4 زمین جو کچھ ان سے گھٹاتی ہے وه ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے.[1]
50:5 بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا ہے جبکہ وه ان کے پاس پہنچ چکی پس وه ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں.[1]
50:6 کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے[1] اور زینت دی ہے[2] اس میں کوئی شگاف نہیں.[3]
50:7 اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دی ہیں.[1]
50:8 تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو.[1]
50:9 اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے.[1]
50:10 اور کھجوروں کے بلند وباﻻ درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں.[1]
50:11 بندوں کی روزی کے لئے اور ہم نے پانی سے مرده شہر کو زنده کر دیا۔ اسی طرح (قبروں سے) نکلنا ہے.[1]
50:12 ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں[1] نے اور ﺛمود نے.
50:13 اور عاد نے فرعون نے اور برادران لوط نے.
50:14 اور ایکہ[1] والوں نے تبع کی قوم[2] نے بھی تکذیب کی تھی۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا[3] پس میرا وعدہٴ عذاب ان پر صادق آگیا.
50:15 کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے[1] ؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں.[2]