محمد جوناگڑھی — 471
40:34 اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے[1] ، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے[2] یہاں تک کہ جب ان کی وفات[3] ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں[4] اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو.[5]
40:35 جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں[1] ، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے[2]، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کردیتا ہے.[3]
40:36 فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک باﻻخانہ[1] بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں.
40:37 (ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں[1] اور بیشک میں سمجھتا ہوں وه جھوٹا ہے[2] اور اسی طرح فرعون کی بدکرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں[3] اور راه سے روک دیا گیا[4] اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی.[5]
40:38 اور اس مومن شخص نے کہا کہ اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راه کی طرف تمہاری رہبری کروں گا.[1]
40:39 اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے[1] ، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے.[2]
40:40 جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ہی ہے[1] اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو تو یہ لوگ[2] جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے.[3]