محمد جوناگڑھی — 444
36:55 جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسﭗ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں.[1]
36:56 وه اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے.
36:57 ان کے لئے جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور بھی جو کچھ وه طلب کریں.
36:58 مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا.[1]
36:59 اے گناهگارو! آج تم الگ ہو جاؤ.[1]
36:60 اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا[1] ، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے.[2]
36:61 اور میری ہی عبادت کرنا[1] ۔ سیدھی راه یہی ہے.[2]
36:62 شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے.[1]
36:63 یہی وه دوزخ ہے جس کا تمہیں وعده دیا جاتا تھا.
36:64 اپنے کفر کا بدلہ پانے کے لئے آج اس میں داخل ہوجاؤ.[1]
36:65 ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے[1] تھے.
36:66 اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں بے نور کر دیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑتے پھرتے لیکن انہیں کیسے دکھائی دیتا؟[1]
36:67 اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں مسﺦ کر دیتے پھر نہ وه چل پھر سکتے اور نہ لوٹ سکتے.[1]
36:68 اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے[1] ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے.[2]
36:69 نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے ﻻئق ہے۔ وه تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے.[1]
36:70 تاکہ وه ہر اس شخص کو آگاه کر دے جو زنده ہے، [1] اور کافروں پر حجت ﺛابت ہو جائے.[2]