>

محمد جوناگڑھی — 440

35:45 اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب داروگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا[1] ، لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے[2]، سو جب ان کی وه میعاد آپہنچے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا.[3]

36:1 یٰس.[1]

36:2 قسم ہے قرآن باحکمت کی.[1]

36:3 کہ بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں.[1]

36:4 سیدھے راستے پر ہیں.[1]

36:5 یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے.[1]

36:6 تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے تھے، سو (اسی وجہ سے) یہ غافل ہیں.[1]

36:7 ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ﺛابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے.[1]

36:8 ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وه ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو الٹ گئے ہیں.[1]

36:9 اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اورایک آڑ ان کے پیچھے کردی[1] ، جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا سو وه نہیں دیکھ سکتے.[2]

36:10 اور آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں دونوں برابر ہیں، یہ ایمان نہیں ﻻئیں گے.[1]

36:11 بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں[1] جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بےدیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور باوقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجیئے.

36:12 بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے[1] ، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں[2] اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے.[3]