محمد جوناگڑھی — 416
32:12 کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں[1] گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب[2] تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں.[3]
32:13 اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب[1] فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا.[2]
32:14 اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا[1] اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو.
32:15 ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں[1] جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں[2] اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں[3] اور تکبر نہیں کرتے ہیں.[4]
32:16 ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں[1] اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں[2] اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں.[3]
32:17 کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے[1] ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے.[2]
32:18 کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو[1] ؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے.
32:19 جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے.
32:20 لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے[1] ۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ[2] اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو.