محمد جوناگڑھی — 404
29:64 اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے[1] البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے[2]، کاش! یہ جانتے ہوتے.[3]
29:65 پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں.[1]
29:66 تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور برتتے رہیں[1] ۔ ابھی ابھی پتہ چل جائے گا.
29:67 کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں[1] ، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں.[2]
29:68 اور اس سے بڑا ﻇالم کون ہوگا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے[1] یا جب حق اس کے پاس آجائے وه اسے[2] جھٹلائے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا؟
29:69 اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں[1] ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے[2]۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے.[3]
30:1 الم.
30:2 رومی مغلوب ہوگئے ہیں.
30:3 نزدیک کی زمین پر اور وه مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے.
30:4 چند سال میں ہی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس روز مسلمان شادمان ہوں گے.
30:5 اللہ کی مدد سے[1] ، وه جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے.