>

محمد جوناگڑھی — 386

28:6 اور یہ بھی کہ ہم انہیں زمین میں قدرت واختیار دیں[1] اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وه دکھائیں جس سے وه ڈر رہے ہیں.[2]

28:7 ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو وحی کی[1] کہ اسے دودھ پلاتی ره اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا اور کوئی ڈر خوف یا رنج غم نہ کرنا[2]، ہم یقیناً اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں[3] اور اسے اپنے پیغمبروں میں بنانے والے ہیں.

28:8 آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا[1] کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعﺚ بنا[2]، کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطاکار.[3]

28:9 اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو[1] ، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائده پہنچائے یا ہم اسے اپنا ہی بیٹا بنا لیں[2] اور یہ لوگ شعور ہی نہ رکھتے تھے.[3]

28:10 موسیٰ (علیہ السلام) کی والده کا دل بے قرار ہوگیا[1] ، قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ﻇاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہ دے دیتے یہ اس لیے کہ وه یقین کرنے والوں میں رہے.[2]

28:11 موسیٰ (علیہ السلام) کی والده نے اس کی بہن[1] سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا، تو وه اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہی[2] اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہ ہوا.

28:12 ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا[1] ۔ یہ کہنے لگی کہ کیا میں تمہیں[2] ایسا گھرانا بتاؤں جو اس بچہ کی تمہارے لیے پرورش کرے اور ہوں بھی وه اس بچے کے خیر خواه.

28:13 پس ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا[1] ، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزرده خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ تعالی کا وعده سچا ہے[2] لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.[3]