>

محمد جوناگڑھی — 381

27:45 یقیناً ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو پھر بھی وه دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے.[1]

27:46 آپ نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں مچا رہے[1] ہو؟ تم اللہ تعالیٰ سےاستغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے.

27:47 وه کہنے لگے ہم تو تیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے[1] ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے ہاں[2] ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو.[3]

27:48 اس شہر میں نو سردار تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے رہتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے.

27:49 انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے[1] ، اور اس کے وارﺛوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں.[2]

27:50 انہوں نے مکر (خفیہ تدبیر) کیا[1] اور ہم نے بھی[2] اور وه اسے سمجھتے ہی نہ تھے.[3]

27:51 (اب) دیکھ لے ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو غارت کردیا.[1]

27:52 یہ ہیں ان کے مکانات جو ان کے ﻇلم کی وجہ سے اجڑے پڑے ہیں، جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لیےاس میں بڑی نشانی ہے.

27:53 ہم نے ان کو جو ایمان ﻻئے تھے اور پرہیزگار تھے بال بال بچالیا.

27:54 اور لوط کا (ذکر کر) جبکہ[1] اس نے اپنی قوم سے کہاکہ کیا باوجود دیکھنے بھالنے کے پھر بھی تم بدکاری کر رہے ہو؟[2]

27:55 یہ کیا بات ہے کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو[1] حق یہ ہے کہ تم بڑی ہی نادانی کر رہے ہو.[2]