محمد جوناگڑھی — 373
26:137 یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.[1]
26:138 اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.[1]
26:139 چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا[1] یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.
26:140 بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.
26:141 ﺛمودیوں[1] نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.
26:142 ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.
26:143 میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.
26:144 تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.
26:145 میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.
26:146 کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.[1]
26:147 یعنی ان باغوں اور ان چشموں.
26:148 اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.[1]
26:149 اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.[1]
26:150 پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
26:151 بے باک حد سے گزر جانے والوں کی[1] اطاعت سے باز آجاؤ.
26:152 جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.
26:153 وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.
26:154 تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.
26:155 آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.[1]
26:156 (خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.[1]
26:157 پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں[1]، بس وه پشیمان ہوگئے.[2]
26:158 اور عذاب نے انہیں آ دبوچا[1] ۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.
26:159 اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.