محمد جوناگڑھی — 347
23:75 اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں اور ان کی تکلیفیں دور کردیں تو یہ تو اپنی اپنی سرکشی میں جم کر اور بہکنے لگیں.[1]
23:76 اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی.[1]
23:77 یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازه کھول دیا تو اسی وقت فوراً مایوس ہوگئے.[1]
23:78 وه اللہ ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے، مگر تم بہت (ہی) کم شکر کرتے ہو.[1]
23:79 اور وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کرکے زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے.[1]
23:80 اور یہ وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اور رات دن کے ردوبدل[1] کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں؟[2]
23:81 بلکہ ان لوگوں نے بھی ویسی ہی بات کہی جو اگلے کہتے چلے آئے.
23:82 کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے کیا پھر بھی ہم ضرور اٹھائے جائیں گے؟
23:83 ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہی یہ وعده ہوتا چلا آیا ہے کچھ نہیں یہ تو صرف اگلے لوگوں کے افسانے ہیں.[1]
23:84 پوچھیئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟
23:85 فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجیئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے.
23:86 دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟
23:87 وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟[1]
23:88 پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے[1] اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا[2]، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟
23:89 یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے، کہہ دیجیئے پھر تم کدھر سے جادو کر دیئے جاتے ہو؟[1]