محمد جوناگڑھی — 344
23:28 جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ﻇالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی.
23:29 اور کہنا کہ اے میرے رب[1] ! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں[2].
23:30 یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں[1] اور ہم بےشک آزمائش کرنے والے ہیں.[2]
23:31 ان کے بعد ہم نے اور بھی امت پیدا کی.[1]
23:32 پھر ان میں خود ان میں سے (ہی) رسول بھی بھیجا[1] کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں[2]، تم کیوں نہیں ڈرتے؟
23:33 اور سرداران قوم[1] نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا[2]، کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ پیتا ہے.[3]
23:34 اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری کر لی ہے تو بےشک تم سخت خسارے والے ہو.[1]
23:35 کیا یہ تمہیں اس بات کا وعده کرتا ہے کہ جب تم مرکر صرف خاک اور ہڈی ره جاؤ گے تو تم پھر زنده کئے جاؤ گے.
23:36 نہیں نہیں دور اور بہت دور ہے وه جس کا تم وعده دیئے جاتے ہو.[1]
23:37 (زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم پھر اٹھائے جائیں گے.
23:38 یہ تو بس ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ (بہتان) باندھ لیا ہے[1] ، ہم تو اس پر ایمان ﻻنے والے نہیں ہیں.
23:39 نبی نے دعا کی کہ پروردگار! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر.[1]
23:40 جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے.[1]
23:41 بالﺂخر عدل کے تقاضے کے مطابق چیﺦ[1] نے پکڑ لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈاﻻ[2]، پس ﻇالموں کے لئے دوری ہو.
23:42 ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں.[1]