>

محمد جوناگڑھی — 319

20:99 اسی طرح ہم تیرے[1] سامنے پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں.[2]

20:100 اس سے جو منھ پھیر لے گا[1] وه یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ ﻻدے ہوئے ہوگا.[2]

20:101 جس میں ہمیشہ ہی رہے گا[1] ، اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے.

20:102 جس دن صور[1] پھونکا جائے گا اور گناه گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر ﻻئیں گے.

20:103 وه آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے[1] ہوں گے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے.

20:104 جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه[1] واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے.

20:105 وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا.

20:106 اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا.

20:107 جس میں تو نہ کہیں موڑ دیکھے گا نہ اونچ نیچ.

20:108 جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں[1] گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی[2] اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا.[3]

20:109 اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے.[1]

20:110 جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا.[1]

20:111 تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا.[1]

20:112 اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان واﻻ بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہوگا نہ حق تلفی کا.[1]

20:113 اسی طرح ہم نے تجھ پر عربی قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیز گار بن[1] جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے.[2]