>

محمد جوناگڑھی — 266

15:71 (لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں.[1]

15:72 تیری عمر کی قسم! وه تو اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے.[1]

15:73 پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا.[1]

15:74 بالﺂخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا[1] اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر[2] برسائے.

15:75 بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے[1] اس میں بہت سی نشانیاں ہیں.

15:76 یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے.[1]

15:77 اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے.

15:78 اور بے شک اَیکَہ بستی کے رہنے والے يقيناً ﻇالم تھے.[1]

15:79 جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں.[1]

15:80 اور حِجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.[1]

15:81 اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی عطا فرمائیں (لیکن) تاہم وه ان سے روگردانی ہی کرتے رہے.[1]

15:82 یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر.[1]

15:83 آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑنے آدبوچا.[1]

15:84 پس ان کی کسی تدبیروعمل نے انہیں کوئی فائده نہ دیا.

15:85 ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ ہی پیدا فرمایا ہے[1] ، اور قیامت ضرور ضرور آنے والی ہے۔ پس تو حسن وخوبی (اور اچھائی) سے درگزر کر لے.

15:86 یقیناً تیرا پروردگار ہی پیدا کرنے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے.

15:87 یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں.[1] کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے.

15:88 آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں.[1]

15:89 اور کہہ دیجئے کہ میں تو کھلم کھلا ڈرانے واﻻ ہوں.

15:90 جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا.[1]