>

محمد جوناگڑھی — 244

12:70 پھر جب انہیں ان کا سامان اسباب ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی پینے کا پیالہ[1] رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے[2] والو! تم لوگ تو چور ہو.[3]

12:71 انہوں نے ان کی طرف منھ پھیر کر کہا کہ تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے؟

12:72 جواب دیا کہ شاہی پیمانہ گم ہے جو اسے لے آئےاسے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ ملے گا۔ اس وعدے کا میں ضامن ہوں.[1]

12:73 انہوں نے کہا اللہ کی قسم! تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں.[1]

12:74 انہوں نے کہا اچھا چور کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ہو؟[1]

12:75 جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے[1] ۔ ہم تو ایسے ﻇالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں.[2]

12:76 پس یوسف نے ان کے سامان کی تلاشی شروع کی، اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے، پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے سامان (زنبیل) سے نکالا[1] ۔ ہم نے یوسف کے لئے اسی طرح یہ تدبیر کی[2]۔ اس بادشاه کے قانون کی رو سے یہ اپنے بھائی کو نہ لے سکتا تھا[3] مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو۔ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں[4]، ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے واﻻ دوسرا ذی علم موجود ہے.[5]

12:77 انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) اس کابھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے[1] ۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا اور ان کے سامنے بالکل ﻇاہر نہ کیا۔ کہا کہ تم بدتر جگہ میں ہو[2]، اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے.

12:78 انہوں نے کہا کہ اے عزیز مصر[1] ! اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں۔ آپ اس کے بدلے ہم میں سے کسی کو لے لیجئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ بڑے نیک نفس ہیں.[2]