محمد جوناگڑھی — 601
103:1 زمانے کی قسم.[1]
103:2 بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے.[1]
103:3 سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل[1] کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی[2] اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی.[3]
104:1 بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو.[1]
104:2 جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے.[1]
104:3 وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا.[1]
104:4 ہرگز نہیں[1] یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا.[2]
104:5 اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟[1]
104:6 وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی.
104:7 جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی.[1]
104:8 وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی.[1]
104:9 بڑے بڑے ستونوں میں.
105:1 کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟[1]
105:2 کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟[1]
105:3 اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے.[1]
105:4 جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے.[1]
105:5 پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا.[1]