محمد جوناگڑھی — 564
67:27 جب یہ لوگ اس[1] وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے[2] اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے.[3]
67:28 آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟[1]
67:29 آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے[1] اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے[2]۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟[3]
67:30 آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟[1]
68:1 ن[1] ، قسم ہے قلم کی اور[2] اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.[3]
68:2 تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے.[1]
68:3 اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے.[1]
68:4 اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.[1]
68:5 پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے.[1]
68:6 کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے.
68:7 بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے.
68:8 پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان.[1]
68:9 وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں.[1]
68:10 اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ.
68:11 بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور.
68:12 بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار.
68:13 گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو.[1]
68:14 اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے.[1]
68:15 جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں.
68:16 ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے.[1]