محمد جوناگڑھی — 519
50:16 ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں[1] اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں.[2]
50:17 جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا.
50:18 (انسان) منھ سے کوئی لفﻆ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے.[1]
50:19 اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی،[1] یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا.[2]
50:20 اور صور پھونک دیا جائے گا۔ وعدہٴ عذاب کا دن یہی ہے.
50:21 اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ﻻنے واﻻ ہوگا اور ایک گواہی دینے واﻻ.[1]
50:22 یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پرده ہٹا دیا پس آج تیری نگاه بہت تیز ہے.
50:23 اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا یہ حاضر ہے جو کہ میرے پاس تھا.[1]
50:24 ڈال دو جہنم میں ہر کافر سرکش کو.
50:25 جو نیک کام سے روکنے واﻻ حد سے گزر جانے واﻻ اور شک کرنے واﻻ تھا.
50:26 جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا تھا پس اسے سخت عذاب میں ڈال دو.[1]
50:27 اس کا ہمنشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراه نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا.[1]
50:28 حق تعالیٰ فرمائے گا بس میرے سامنے جھگڑنے کی بات مت کرو میں تو پہلے ہی تمہاری طرف وعید (وعدہٴ عذاب) بھیج چکا تھا.[1]
50:29 میرے ہاں بات بدلتی نہیں[1] اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ﻇلم کرنے واﻻ ہوں.[2]
50:30 جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وه جواب دے گی کیا کچھ اور زیاده بھی ہے؟[1]
50:31 اور جنت پرہیزگاروں کے لئے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی.[1]
50:32 یہ ہے جس کا تم سے وعده کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے واﻻ اور پابندی کرنے واﻻ ہو.[1]
50:33 جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ واﻻ دل ﻻیا ہو.[1]
50:34 تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
50:35 یہ وہاں جو چاہیں انھیں ملے گا (بلکہ) ہمارے پاس اور بھی زیاده ہے.[1]