>

محمد جوناگڑھی — 457

38:62 اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے.[1]

38:63 کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا[1] یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں.[2]

38:64 یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہوگا.[1]

38:65 کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں[1] اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں.

38:66 جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے.

38:67 آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے.[1]

38:68 جس سے تم بے پرواه ہو رہے ہو.

38:69 مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے.[1]

38:70 میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں.[1]

38:71 جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا[1] کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا[2] کرنے واﻻ ہوں.

38:72 سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں[1] اور اس میں اپنی روح پھونک دوں[2]، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا.[3]

38:73 چنانچہ تمام فرشتوں نے سجده کیا.[1]

38:74 مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا[1] اور وه تھا کافروں میں سے.[2]

38:75 (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا[1] تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے.

38:76 اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے.[1]

38:77 ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا.

38:78 اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے.

38:79 کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے.

38:80 (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے.

38:81 متعین وقت کے دن تک.

38:82 کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا.

38:83 بجز تیرے ان بندوں کے جو چیده اور پسندیده ہوں.