محمد جوناگڑھی — 448
37:52 جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت کے آنے کا) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟[1]
37:53 کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟[1]
37:54 کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟[1]
37:55 جھانکتے ہی اسے بیچوں بیچ جہنم میں (جلتا ہوا) دیکھے گا.
37:56 کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دے.
37:57 اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا.[1]
37:58 کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟[1]
37:59 بجز پہلی ایک موت[1] کے، اور نہ ہم عذاب کیے جانے والے ہیں.
37:60 پھر تو (ﻇاہر بات ہے کہ) یہ بڑی کامیابی ہے.[1]
37:61 ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے.[1]
37:62 کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ (زقوم) کا درخت؟[1]
37:63 جسے ہم نے ﻇالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے.[1]
37:64 بے شک وه درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے.[1]
37:65 جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں.[1]
37:66 (جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے.[1]
37:67 پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہوگی.[1]
37:68 پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا.[1]
37:69 یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا.
37:70 اور یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑتے رہے.[1]
37:71 ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں.[1]
37:72 جن میں ہم نے ڈرانے والے (رسول) بھیجے تھے.[1]
37:73 اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا.
37:74 سوائے اللہ کے برگزیده بندوں کے.[1]
37:75 اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں.[1]
37:76 ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو[1] اس زبردست مصیبت سے بچا لیا.