محمد جوناگڑھی — 446
37:1 قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی.
37:2 پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی.
37:3 پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی.
37:4 یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے.[1]
37:5 آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے.[1]
37:6 ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا.
37:7 اور حفاﻇت کی سرکش شیطان سے.[1]
37:8 عالم باﻻ کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وه کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وه مارے جاتے ہیں.
37:9 بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے.
37:10 مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے.
37:11 ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا[1] ؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے.[2]
37:12 بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں.[1]
37:13 اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے.
37:14 اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں.
37:15 اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے.[1]
37:16 کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈی ہو جائیں گے پھر کیا (سچ مچ) ہم اٹھائے جائیں گے؟
37:17 کیا ہم سے پہلے کے ہمارے باپ دادا بھی؟
37:18 آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے.[1]
37:19 وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے[1] کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے.[2]
37:20 اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا (سزا) کا دن ہے.
37:21 یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے.[1]
37:22 ﻇالموں کو[1] اور ان کے ہمراہیوں کو[2] اور (جن) جن کی وه اللہ کے علاوه پرستش کرتے تھے.[3]
37:23 (ان سب کو) جمع کرکے انہیں دوزخ کی راه دکھا دو.
37:24 اور انہیں ٹھہرا لو[1] ، (اس لئے) کہ ان سے (ضروری) سوال کیے جانے والے ہیں.