محمد جوناگڑھی — 418
33:1 اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا[1] اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ اور بڑی حکمت واﻻ ہے.[2]
33:2 جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے[1] اس کی تابعداری کریں (یقین مانو) کہ اللہ تمہارے ہر ایک عمل سے باخبر ہے.[2]
33:3 آپ اللہ ہی پر توکل رکھیں[1] ، وه کار سازی کے لئے کافی ہے.[2]
33:4 کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے[1] ، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں[2] بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے[3]، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں[4]، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے[5] اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے.
33:5 لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی[1] ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں[2]، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں[3]، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو[4]۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے.
33:6 پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے[1] ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں[2]، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں[3] (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو[4]۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے.[5]