>

محمد جوناگڑھی — 415

32:1 الم.

32:2 بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے.[1]

32:3 کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے[1] ۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا[2]۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں.

32:4 اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا[1] ، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں[2]۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے.[3]

32:5 وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے[1] ۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے.[2]

32:6 یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان.

32:7 جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی[1] اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی.[2]

32:8 پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی.[1]

32:9 جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی[1] ، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو.[3]

32:10 انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں[1] گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں.

32:11 کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے[1] . پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.