>

محمد جوناگڑھی — 400

29:31 اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں[1] ، یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں.

29:32 (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا اس میں تو لوط (علیہ السلام) ہیں، فرشتوں نے کہا یہاں جو ہیں ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں[1] ۔ لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے خاندان کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے، البتہ وه عورت پیچھے ره جانے والوں میں سے ہے.[2]

29:33 پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے[1] ۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی[2] بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی.

29:34 ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں[1] اس وجہ سے کہ یہ بےحکم ہو رہے ہیں.

29:35 البتہ ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنا دیا[1] ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں.[2]

29:36 اور مدین کی طرف[1] ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو[2] اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو.[3]

29:37 پھر بھی انہوں نے انہیں جھٹلایا آخر انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وه اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے مرده ہو کر ره گئے.[1]

29:38 اور ہم نے عادیوں اور ﺛمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ﻇاہر ہیں[1] اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راه سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے.[2]