محمد جوناگڑھی — 372
26:112 آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟[1]
26:113 ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ[1] ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.
26:114 میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.[1]
26:115 میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.[1]
26:116 انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.
26:117 آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.
26:118 پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.
26:119 چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.
26:120 بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.[1]
26:121 یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.
26:122 اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.
26:123 عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.[1]
26:124 جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود[1] نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
26:125 میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.
26:126 پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!
26:127 میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.
26:128 کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.[1]
26:129 اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.[1]
26:130 اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.[1]
26:131 اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.[1]
26:132 اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.
26:133 اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.
26:134 باغات سے اور چشموں سے.
26:135 مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.[1]
26:136 انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.