محمد جوناگڑھی — 371
26:84 اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.[1]
26:85 مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.
26:86 اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.[1]
26:87 اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.[1]
26:88 جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.
26:89 لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.[1]
26:90 اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.
26:91 اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.[1]
26:92 اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
26:93 جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے[1] ، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.
26:94 پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.[1]
26:95 اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر[1] بھی، وہاں.
26:96 آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.
26:97 کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.
26:98 جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.[1]
26:99 اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.[1]
26:100 اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.
26:101 اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.[1]
26:102 اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.[1]
26:103 یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے[1] ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.[2]
26:104 یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.
26:105 قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.[1]
26:106 جبکہ ان کے بھائی[1] نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
26:107 سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.[1]
26:108 پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.[1]
26:109 میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.[1]
26:110 پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.[1]
26:111 قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.[1]