محمد جوناگڑھی — 247
12:96 جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے منھ پر وه کرتا ڈاﻻ اسی وقت وه پھر سے بینا ہوگئے[1] ۔ کہا! کیا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وه باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے.[2]
12:97 انہوں نے کہا ابا جی! آپ ہمارے لئے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے بیشک ہم قصور وار ہیں.
12:98 کہا اچھا میں جلد ہی تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا[1] ، وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے.
12:99 جب یہ سارا گھرانہ یوسف کے پاس پہنچ گیا تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی[1] اور کہا کہ اللہ کو منظور ہے تو آپ سب امن وامان کے ساتھ مصر میں آؤ.
12:100 اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ[1] کو اونچا بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدے میں گر گئے[2]۔ تب کہا کہ اباجی! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے[3] میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا، اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب کہ مجھے جیل خانے سے نکالا[4] اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا[5] اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا [6]تھا۔ میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے واﻻ ہے۔ اور وه بہت علم وحکمت واﻻ ہے.
12:101 اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا[1] اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی[2]۔ اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا وآخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے.[3]
12:102 یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وه فریب کرنے لگے تھے.[1]
12:103 گو آپ لاکھ چاہیں لیکن اکثر لوگ ایمان دار نہ ہوں گے.[1]