محمد جوناگڑھی — 577
74:48 پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی.[1]
74:49 انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منھ موڑ رہے ہیں.
74:50 گویا کہ وه بِدکے ہوئے گدھے ہیں.
74:51 جو شیر سے بھاگے ہوں.[1]
74:52 بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں.[1]
74:53 ہرگز ایسا نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں.[1]
74:54 سچی بات تو یہ ہے کہ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے.[1]
74:55 اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے.
74:56 اور وه اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے[1] ، وه اسی ﻻئق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس ﻻئق بھی کہ وه بخشے.[2]
75:1 میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.[1]
75:2 اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو.[1]
75:3 کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.[1]
75:4 ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.[1]
75:5 بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے.[1]
75:6 پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا.[1]
75:7 پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی.[1]
75:8 اور چاند بے نور ہو جائے گا.[1]
75:9 اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے.[1]
75:10 اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟[1]
75:11 نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں.[1]
75:12 آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے.[1]
75:13 آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا.[1]
75:14 بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے.[1]
75:15 اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے.[1]
75:16 (اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت[1] نہ دیں.
75:17 اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے.[1]
75:18 ہم جب اسے پڑھ[1] لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں.[2]
75:19 پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے.[1]