محمد جوناگڑھی — 574
73:1 اے کپڑے میں لپٹنے والے.[1]
73:2 رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم.
73:3 آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے.
73:4 یا اس پر بڑھا دے[1] اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر.[2]
73:5 یقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے.[1]
73:6 بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے[1] اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے.[2]
73:7 یقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے.[1]
73:8 تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا.[1]
73:9 مشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے.
73:10 اور جو کچھ وه کہیں تو سہتا ره اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ ره.
73:11 اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے.
73:12 یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے.
73:13 اور حلق میں اٹکنے واﻻ کھانا ہے اور درد دینے واﻻ عذاب ہے.[1]
73:14 جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے.[1]
73:15 بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ[1] رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا.
73:16 تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا.[1]
73:17 تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناه پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا.[1]
73:18 جس دن آسمان پھٹ جائے گا[1] اللہ تعالیٰ کا یہ وعده ہو کر ہی رہنے واﻻ ہے.[2]
73:19 بیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راه اختیار کرے.