محمد جوناگڑھی — 449
37:77 اور اس کی اوﻻد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی.[1]
37:78 اور ہم نے اس کا (ذکر خیر) پچھلوں میں باقی رکھا.[1]
37:79 نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوں میں سلام ہو
37:80 ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.[1]
37:81 وه ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا.
37:82 پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا.
37:83 اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے.[1]
37:84 جبکہ اپنے رب کے پاس بے عیب دل ﻻئے.
37:85 انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو؟
37:86 کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟[1]
37:87 تو یہ (بتلاؤ کہ) تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟[1]
37:88 اب ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک نگاه ستاروں کی طرف اٹھائی.
37:89 اور کہا میں تو بیمار ہوں.[1]
37:90 اس پر وه سب اس سے منھ موڑے ہوئے واپس چلے گئے.
37:91 آپ (چﭗ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟[1]
37:92 تمہیں کیا ہو گیا کہ بات تک نہیں کرتے ہو.
37:93 پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے.[1]
37:94 وه (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ[1] ہوئے.
37:95 تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو.
37:96 حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے.[1]
37:97 وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو.
37:98 انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچا کر دیا.[1]
37:99 اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں[1] ۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا.
37:100 اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما.
37:101 تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی.[1]
37:102 پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے[1] ، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے[2]؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.