>

محمد جوناگڑھی — 367

26:1 طٰسم.

26:2 یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں۔

26:3 ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.[1]

26:4 اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.[1]

26:5 اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.

26:6 ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.[1]

26:7 کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟[1]

26:8 بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے[1] اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.[2]

26:9 اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.[1]

26:10 اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.[1]

26:11 قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.

26:12 موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.

26:13 اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے[1] میری زبان چل نہیں رہی[2] پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.[3]

26:14 اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.[1]

26:15 جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ[1] ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.[2]

26:16 تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.

26:17 کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے.[1]

26:18 فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟[1] اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟[2]

26:19 پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.[1]